اس شعر کا حکم بتا دیں”ہر ایک کی کعبہ میں ولادت نہیں ہوتی نبیوں کو بھی حاصل یہ سعادت نہیں ہوتی“؟
پہلی بات تو یہ کہ راجح قول کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ میں نہیں ہوئی،بالفرض اس قول کو مانا بھی جائے تو ایسا نہیں کہ اس کے سبب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تمام انبیاء کرام علیھم السلام پر فضیلت حاصل ہوگئی۔اگر اس شعر کے مصرعہ ثانی سے انبیاء کرام علیھم السلام کی توہین یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کوانبیاء کرام علیھم السلام سے افضل بتانا مقصود ہو تو اس عقیدے کے ساتھ لکھنے،پڑھنے یا سن کر راضی ہونے والا کافرہوجائے گا اور اگر یہ مقصود نہ ہو توبھی اس طرح کا شعر جس میں انبیاء کرام کی توہین کا پہلو نکلتا ہولکھنا پڑھنا سننا جائز نہیں۔ المعتقد میں ہے:”إن نبیا واحدا أفضل عند اللّٰہ من جمیع الأولیاء، ومن فضل ولیا علی نبي یخشی الکفر بل ہو کافر“ ترجمہ: بے شک ایک نبی بھی اللہ کے نزدیک تمام اولیا سے افضل ہے اور جس نے کسی ولی کو نبی پر فضیلت دی تو اس پر کفر کا خوف ہے بلکہ وہ کافر ہے۔ (المعتقد المنتقد،صفحہ125)