سوال:اگر جمعہ پڑھتے ہوے قعدہ میں کسی مقتدی کا وضو ٹوٹ جائے اور دوبارہ وضو کرنے سے امام کے سلام پھیرنے کا خطرہ ہو تو کیا حکم ہے تیم کر کے جمعہ پڑھ سکتے ہیں ؟
یوزر آئی ڈی:نذیر احمد
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں تیمم کر کے جمعہ پڑھنے کی اجازت نہیں بلکہ مقتدی وضو کرے اگر امام صاحب جمعہ کا سلام پھیر دیں تو اگر فورا جائے اور وضو کرکے بقیہ نماز پڑھے تو جمعہ ہوسکتا ہے لیکن اس کی شرائط بہت مشکل ہیں،بہتر ہے کہ شہر میں کسی اور مسجد میں جمعہ ادا کر لے اور اگر کہیں جمعہ کی جماعت نہ ملے تو ظہر کی نماز ادا کرے۔ الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:”وتجوز الصلاة على الجنازة بالتيمم إذا خاف فوتها لو توضأ، وكذلك صلاة العيد، ولا يجوز للجمعة وإن خاف الفوت“ یعنی پانی پرقدرت نہ ہونے کی صورت میں نماز جنازہ نکل جانے کا خوف ہو تو تیمم کرکے نمازہ جنازہ پڑھنا جائز ہے یہی حکم نمازعیدکا ہے لیکن جمعہ پڑھنے کے لئے تیمم کرنا جائز نہیں ہے اگرچہ فوت ہونے کا خوف ہو ۔
(الاختیار لتعلیل المختار ،جلد1،صفحہ33،مطبوعہ پشاور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ
انتظار حسین مدنی کشمیری
26محرم الحرام1445ھ/11 اگست 2023 ء