سوال:کسی کے انتقال کے سبب اونچا رونا ،پیٹنا،آہ و بکا کرنا کیسا؟
یوزر آئی ڈی:محمد فیاض
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کسی کے مرنے پر چلا چلا کر رونا ،جزع فزع کرنا ،پیٹنا،گریبان پھاڑنا ،ناجائز و حرام ہے ہاں غم کی وجہ سے بغیر آواز کے رونے میں حرج نہیں ایسے مواقع پر صبر سے کام لینے کا حکم ہے۔ علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے مرقاۃ المفاتیح میں بیان فرمایا:”(لایعذب بدمع العین ولا بحزن القلب) بل یثاب بھما اذا کانا علی جھۃ الرحمۃ“یعنی آنسوؤں سے رونے اور دل کے غم پر عذاب نہیں دیا جائے گا، بلکہ ان دونوں پر ثواب ملے گا اگر رَحمت کی جہت سے ہو۔
(مرقاۃ المفاتیح، جلد4،صفحہ 180،تحت الحدیث 1724، مطبوعہ :بیروت)
امام اہل سنت سیدی اعلی حضرت امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :”میت پرچلاکررونا،جزع فزع کرنا حرام ،سخت حرام ہے۔“
(فتاوی رضویہ ،جلد24،صفحہ486،رضافاؤنڈیشن لاہور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ
انتظار حسین مدنی کشمیری
4محرم الحرام1444ھ/23جولائی 2023 ء