کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر منہ سے خون نکلے تو منہ کو پاک کیسے کیا جاۓ گا ؟
کیا اس طرح پاک ہوجاۓ گا کے ایک بار منہ میں پانی ڈالا پھر ہاتھ کو واش کر دیا اس ترہا تین بار کیا
نوٹ:جب کے ہونٹوں کو نہ واش کرے
تو کیا اس طرح منہ اور ہونٹ پاک ہو جاتے ہیں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کسی کے منہ سے اتنا خون نکلا کے تھوک پر سرخی غالب آ گئی تو منہ ناپاک ہو گیا اور اسے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سرخی ختم ہونے کہ بعد ایک بار کلی کر لے ،اور اگر ایسے ہی چھوڑ دیا پھر چند بار تھوک نکلا کہ طہارت کا اثر جاتا رہا تو پاک ہو جائے گا ،
سوال میں جو عمل بیان ہوا منہ پاک کرنے کے لئے اگر خون کا اثر زائل ہو گیا ہے تو منہ پاک ہو گیا اور ہونٹوں کا اندرونی حصہ منہ کے تابع ہے تو اس لئے وہ بھی ساتھ ہی پاک ہو جائیں گے ،اور اگر ہونٹوں کا ظاہری حصہ ناپاک ہو گیا ہے تو وہ الگ سے دھو کر پاک کر لے کہ وہ چہرے کے تابع ہے ۔
مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں منہ کو پاک کرنے کا طریقہ بیان فرماتے ہیں:
کسی کے مونھ سے اتنا خون نکلاکہ تھوک میں سرخی آ گئی ،،،اور سرخی جاتی رہنے کے بعد اس پر لازم ہے کہ کُلی کرکے مونھ پاک کرے ۔اور اگر کُلی نہ کی اور چند بار تھوک کا گزر موضع نَجاست پر ہوا خواہ نگلنے میں یا تھوکنے میں یہاں تک کہ نَجاست کا اثر نہ رہا تو طہارت ہو گئی
( بہار شریعت ، حصہ دوم ، جلد 1 ، صفحہ 344، دار الکتب العلمیہ بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
ومن دمي فوه ،،،إن ابتلع ريقه مرارا طهر فمه على الصحيح كذا في السراج الوهاج.
ترجمہ : جس کے منہ سے خون نکلتا ہو اگر اس نے چند بار تھوک نگلا تو صحیح قول کے مطابق اس کا منہ پاک ہو گیا ۔ایسا ہی سراج الوہاج میں ہے ۔
( فتاوی عالمگیری ، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني،جلد 1 ، صفحہ 23، دار الکتب العلمیہ بیروت )
ہونٹوں کے اندرونی و بیرونی حصے کے بارے میں بحر الرائق میں ہے:
وأما الشفة فقيل تبع للفم وقال أبو جعفر: ما انكتم عند انضمامه فهو تبع له وما ظهر فللوجه وصححه في الخلاصة۔
ترجمہ :۔ اور بہر حال ہونٹ تو کہا گیا ہے کہ وہ منہ کے تابع ہیں اور أبو جعفر رحمہ اللہ نے بیان فرمایا : ہونٹوں کے ملنے وقت جو حصہ چھپ جائے تو وہ منہ کے تابع ہے اور جو ظاہر رہے(یعنی نہ چھپے) تو وہ چہرے کے تابع اور اس (قول) کو خلاصہ میں صحیح قرار دیا ۔
( بحر الرائق ، أرکان الطہارۃ ، جلد ، صفحہ 12 ، دار الکتب العلمیہ بیروت)
و اللہ اعلم و رسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ
ارشاد حسین عفی عنہ
5/05/2023