کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس بارے میں کہ یہاں پر کچھ آن لائن ایپلیکیشنز (applications) ہیں جن کے ذریعے لوگ گروسری وغیرہ کو خریدتے ہیں، یا اپلیکیشن (application) کے ذریعہ پیمنٹ (payment)کر کے کریڈٹ واؤچر لے کر اپلیکیشن والٹ میں کریڈٹ لوڈ کر لیتے ہیں اور اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات اپلیکیشن میں ایرر آنے کی وجہ سے کریڈٹ واؤچر پیمنٹ کے بغیر ہی شو ہونے لگتے ہیں۔ اس سچویشن میں بعض لوگ پیمنٹ (payment) کے بغیر ہی فری کریڈٹ لوڈ کر لیتے ہیں، اور پھر اس سے شاپنگ کرتے ہیں۔ ایسا کرنا کیسا؟لیکن کمپنی کی طرف سے کسی قسم کا کوئی اعلان یا کریڈٹ واپسی کا مطالبہ بھی نہیں ہوتا۔
سائل: محمد وسیم (یو اے ای)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
صورتِ مسئولہ میں ایرر (error) کی وجہ سے پیمنٹ کیے بغیر فری میں کریڈٹ واؤچر ڈاؤنلوڈ کر کے کریڈٹ والٹ میں لوڈ کرنا شرعا جائز نہیں، نہ ہی اس کا استعمال روا ہے۔ اگر بغیر پیمنٹ کے سسٹم ایرر کی وجہ سے وہ شو بھی رہا تھا تو چاہیئے یہ تھا کہ اسے ڈاؤنلوڈ نہ کیا جاتا بلکہ اپنی پروفائیل سے اسے ریموو یا ڈلیٹ کر دیا جاتا، کیونکہ یہ اس کا حق نہیں۔ بلکہ اگر اسے ایسے ہی چھوڑ دیتے تو ایرر کے ریسالو (resolve) ہوتے خود بخود یہ ختم ہو جاتا۔ بہر کیف اگر کسی نے ایسا کر لیا ہو یعنی ناجائز طریقے پر اس واؤچر کو استعمال کر لیا ہو تو اس پر لازم ہے کہ کمپنی کو اتنے پیسے واپس کرے اور توبہ کرے۔ اگر کمپنی کو براہِ راست ادائیگی ممکن نہیں تو ہیلپ سینٹر رابطہ کر کے اتنے پیسوں کے دیگر واؤچر خرید کر کمپنی ہی کو لوٹا دے، اور اگر یہ بھی ممکن نہیں اور کسی طرح کمپنی کو ادائیگی نہیں ہو سکتی تو کمپنی کی طرف سے اتنی رقم صدقہ کر دے۔
تفصیل اس مسئلہ کی کچھ یوں ہے کہ ایپلیکیشن کےذریعے پیمنٹ کرنے پر ملنے والا کریڈٹ واؤچر در اصل کمپنی کی جانب سے تحفہ ہوتا ہے جو کہ کمپنی اسی شخص کو دیتی ہے جو ان کی شرائط پر پورا اترتے ہوئے پیمنٹ کرنے کے لیے ان کی ایپلیکیشن استعمال کرتا ہے۔ لیکن جب ایک شخص ان شرائط پر پورا اترا ہی نہیں بلکہ محض ایپلیکیشن ایرر کی وجہ سے سسٹم کو مغالطہ لگا اور اس کو واؤچر شو ہونے لگ گیاتو ظاہر ہے اس شخص کے لیے نہ ہی کمپنی نے وہ واؤچر ایشو کیا ہے اور نہ ہی اس شخص کا استحقاق ہوا۔ لہذا وہ واؤچر لینا کئی وجوہات کی بنا پر جائز نہ رہا: اولاً یہ ناحق اور باطل طریقے سے دوسرے کا مال ہڑپ کرنا ہے کہ اس کریڈٹ والٹ کے ذریعے یہ شخص مفت میں چیزیں خرید سکے گا جس کی ادائیگی کمپنی کو کرنی پڑے گی۔ ثانیاً اس میں دھوکا دہی کی صورت واضح ہے، کہ اس بات کا علم ہوتے ہوئے کہ یہ ایرر کی وجہ سے غلط واؤچر مجھے شو ہو رہا ہے پھر بھی اسے لینا اور استعمال کرنا کمپنی کے ساتھ دھوکا ہے ۔ سوال میں بیان کیا گیا کہ کمپنی کی طرف سے کریڈٹ واپسی کا فی الوقت مطالبہ نہیں، لیکن لا محالہ اگر کمپنی کو اس کی اطلاع جائے تو کمپنی اس پر ہرگز راضی نہ ہوگی۔ ثالثاً اس میں ایک مسلمان کو نقصان پہنچانا پایا جا رہا ہے، جس سے ہمیں منع کیا گیا ہے، کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
شیخ شمس الدين محمد بن عبد الله خطيب تمرتاشی غزی �(المتوفی: 1004ھ/ 1596ء) لکھتے ہیں: ”هي تمليك العين مجانا“ ترجمہ: ہبہ (تحفہ) مفت میں عین چیز کا کسی کو مالک بنانا ہے۔
(تنوير الأبصار، کتاب الهبۃ، جلد نمبر 1، صفحه نمبر 182، مطبوعه: المکتبة النبوية)
قرآن پاک میں اللہ کریم کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوَالَکُمۡ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوۡابِہَاۤ اِلَی الْحُکَّامِ
لِتَاۡکُلُوۡا فَرِیۡقًا مِّنْ اَمْوالِ النَّاسِ بِالۡاِثْمِ وَاَنۡتُمْ تَعْلَمُوۡنَ﴾ترجمہ کنزالایمان :اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤاور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھالو جان بوجھ کر۔
(پارہ نمبر 2،سورۃ البقرۃ 2،آیت نمبر 188)
علامہ ابو عبد الله محمد بن احمد انصاری قرطبی � (المتوفی:671ھ/1273ء) اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:”الخطاب بهذه الآية يتضمن جميع أمة محمد صلى الله عليه وسلم، والمعنى: لا يأكل بعضكم مال بعض بغير حق. فيدخل في هذا: القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق، وما لا تطيب به نفس مالكه“ ترجمہ: اس آیت میں خطاب حضور ﷺ کی تمام امت کو شامل ہے اور معنی یہ ہے کہ تم میں سے کوئی بھی دوسرے کا مال نا حق طریقے سے نہ کھائے، اس عموم میں جوا، غصب، حق دینے سے انکار کر کے حق کھا جانا، جس چیز کے دینے پر مالک راضی نہ ہو، اس کا لینا (وغیرہ سب شامل ہیں۔)
(الجامع لأحكام القرآن، جلد نمبر 2، صفحه نمبر 338، مطبوعه: دار الكتب المصرية، القاهرة)
حضرت انس بن مالک � سے مروی ہے کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفسه“ ترجمہ:کسی مسلمان کامال بغیراس کی رضاکے لیناحلال نہیں ہے ۔
(سنن الدارقطنی،جلد نمبر 3،صفحہ نمبر 424، حدیث نمبر 2885، مطبوعہ: مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
خاتم المحققین علامہ ابن عابدين سید محمد امين بن عمر شامی حنفی � (المتوفى: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں:” لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي“ترجمہ: کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ بغیر کسی سبب شرعی کے، کسی دوسرے کا مال لے۔
(رد المحتار علی الدر المختار، کتاب کتاب الحدود باب التعزیر ، جلد نمبر 3، صفحه نمبر 178، مطبوعه: دار الفکر)
جامع صغیر ،صحیح ابن حبان،المعجم الکبیر لطبرانی وغیرہ کتبِ حدیث میں یہ حدیث مبارکہ مروی ہے:”قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من غشنا فلیس منا والمکروالخداع فی النار“ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں، اور مکرکرنے والا اور دھوکہ دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔
(صحیح ابن حبان، جلد نمبر12، صفحۃ نمبر 369، مطبوعه: مؤسسة الرسالة)
(المعجم الكبير، جلد نمبر10، صفحه نمبر138، مطبوعه: القاهرة، جامع الصغیر،جلد نمبر 6،صفحہ نمبر 241،مطبوعہ: بیروت)
علامہ برہان الدین ابو المعالی محمود بن احمد بخاری حنفی � (المتوفى: 616ھ/ت1219ء) لکھتے ہیں: ” والغدرحرام“ترجمہ:اوردھوکہ دیناحرام ہے ۔
(المحيط البرهانی فی الفقه النعمانی،جلد نمبر2،صفحہ نمبر 363،دارالكتب العلمية،بيروت)
شیخ الإسلام والمسلمین امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان� (المتوفی: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”غدر(دھوکہ )مطلقاً حرام ہے نیز کسی قانونی جُرم کاارتکاب کرکے اپنے آپ کو بلاوجہ ذلت و بلاکے لئے پیش کرنا شرعاً بھی جرم ہے۔“
(فتاوی رضویہ، جلد نمبر 23، صفحہ نمبر581، مطبوعہ: رضافاؤنڈیشن، لاہور)
حضرت ابو سعید خدری � سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا:”لا ضرر ولا ضرار ، من ضار ضره الله ، ومن شاق شق الله عليه“ ترجمہ: نہ ضرر (نقصان) لو اورنہ ہی ضرردو،جوضرردے اللہ c اس کوضرردے گا، اورجومشقت میں ڈالے اللہ c اس کو مشقت میں ڈالےگا ۔
(سنن الدارقطنی،جلد نمبر 4،صفحہ نمبر 51، حدیث نمبر 3079، مطبوعہ: مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
بدر الفقہاء اجمل العلماء علامہ مفتی محمد اجمل قادری رضوی � (المتوفی: 1383ھ/1963ء) لکھتے ہیں: ” جو مال بغیر مرضی مالک کے کسی طرح جبر و غصب سے حاصل کیا جاوے، وہ حرام و خبیث مال ہوا اور حرام و خبیث مال نہ تو کارِ خیر کے لائق ہے، نہ شرعا غاصب کو اس کے صرف کرنے کا حق حاصل، نہ بعد علم کے ایسے مال خبیث کا کارِ خیر میں لگانا جائز ہے بلکہ اس غاصب پر فرض ہے کہ جلد از جلد اس مال مغصوب کو اگر مالک زندہ ہے تو اس کو سونپ دے اور اگر مالک موجود نہ ہو تو اس کے ورثاء کو سپرد کرے اور اگر یہ بھی نہ ہوں تو پھر مال اس کی طرف سے صدقہ کر دے۔“
(فتاوی اجملیہ،جلد نمبر 3،صفحہ نمبر 322، مطبوعہ: شبیر برادرز لاہور)
و اللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبــــــــــــــــــــــــــــہ
مولانا احمد رضا عطاری حنفی
25 شوال المکرم 1444ھ / 16 مئی 2023ء