کتنی مرتبہ سورج وآپس پلٹا یا وقت رُکا؟
سوال:مفتی صاحب، یہ جو عوام میں مشہور ہے کہ چار دفعہ وقت رُک گیا تھا، کیا یہ سچ ہے،کون کون سے وقت رکا تھا؟
(سائل:نوید ریاض)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
عوام میں مشہور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے اذان فجر نہ دینے پر سورج کے طلوع نہ ہونے کا واقعہ اور بی بی فاطمہ رضی اللہ عنھا کے سر سے دوپٹہ اتر جانے پر سورج کے رُک جانے کا واقعہ کہیں سے ثابت نہیں،البتہ اسکے علاوہ چند مرتبہ تھوڑی دیر کے لیے سورج کا رُک جانا یا وآپس پلٹنا بعض روایات سے ثابت ہے۔
(1) ایک مرتبہ جب حضرت یوشع بن نون علیہ السلام جہاد کر رہے تھے تو ابھی آپ نے فتح حاصل نہ کی تھی کے سورج غروب ہونے لگا اس پر آپ کے دعا کرنے کے سبب سورج کو اتنی دیر کے لیے روک دیا گیا تھا کہ آپ کو فتح حاصل ہو گئی۔ [الصحیح البخاری،کتاب الجہاد]
(2) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور علیہ السلام نے سورج کو تھوڑی دیر ٹھہرنے کا حکم فرمایا تو سورج کچھ دیر کے لیے رک گیا [الطبراني، المعجم الأوسط،باب العين، من إسمه علي، ٢٢٤/٤]
(3) معراج سے وآپس آ کر جب حضور علیہ السلام نے قریش والوں کو بتایا کہ تمہارا ایک قافلہ بدھ کو یہاں پہنچ جائے گا، پھر جب بدھ کو دن ختم ہونے لگا تو حضور علیہ السلام کے دعا فرمانے پر سورج کو روک دیا گیا اور دن کچھ لمبا ہو گیا۔ [الشفا بتعريف حقوق المصطفى، القسم الأول]
(4)ایک مرتبہ جب حضرت علی کی نماز عصر قضاء ہوئی تو حضور علیہ السلام کی دعا سے ڈوبا ہوا سورج پلٹ آیا۔ [الشفا بتعريف حقوق المصطفى]
(5)ایک روایت کے مطابق غزہ خندق میں نماز عصر کے سورج کو روکا گیا،یہاں تک کہ آپ علیہ السلام نے نماز ادا فرما لی۔[عمدة القاري]
(6) ایک روایت کے مطابق جب حضرت سلیمان علیہ السلام جہاد کے لیے گھوڑوں کو دیکھ رہے تھے کہ سورج غروب ہو گیا تو انہوں نے اللہ کے اذن سے، سورج پر مؤکل فرشتوں سے وآپس پلٹانے کا کہا تو سورج وآپس پلٹایا گیا یہاں تک کہ انہوں نے عصر کی نماز ادا فرما لی۔
[تفسیر نسفی، مظہری، خازن، روح البیان، سورۃ ص ، آیت 33]
(7) ایک مرتبہ موسی علیہ السلام نے فجر کے وقت بنی اسرائیل سے سفر پر نکلنے کا وعدہ کیا، اس سفر میں تابوت بھی ساتھ لے کے جانا تھا، تابوت ڈھونڈنے میں کچھ تاخیر ہو گئی،آپ نے اللہ عزوجل سے طلوع فجر میں تاخیر کی دعا مانگی تو دعا قبول ہوئی۔ [عمدة القاري]
(8) بعض روایات سے ایک مرتبہ حضرت داود علیہ السلام کی دُعا سے بھی سورج کا رُکنا ثابت ہے۔ [روح البیان، فتح الباری]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
05 شعبان المعظم 1445ء 16 فروری 2023ھ