گریجویٹی فنڈ میں اجیر کی تنخواہ سے کچھ کٹوتی نہیں ہوتی اور مکمل رقم کمپنی اپنے پاس سے دیتی ہے اور اصول یہ ہے کہ جب اجیر نوکری چھوڑتا ہے تو اس وقت کی سیلری کے مطابق اس کے کام کئے سالوں کے برابر ملتی ہے اس پر زکوۃ کا کیا حکم ہے؟

گریجویٹی فنڈ میں اجیر کی تنخواہ سے کچھ کٹوتی نہیں ہوتی اور مکمل رقم کمپنی اپنے پاس سے دیتی ہے اور اصول یہ ہے کہ جب اجیر نوکری چھوڑتا ہے تو اس وقت کی سیلری کے مطابق اس کے کام کئے سالوں کے برابر ملتی ہے اس پر زکوۃ کا کیا حکم ہے؟

گریجویٹی فنڈ کمپنی کی طرف سے ملنے والا انعام اور تحفہ ہے لہذا وہ رقم ملنے سے پہلے اس کی زکوۃ اجیر پر لازم نہیں البتہ جب یہ رقم مل جائے اور اجیر صاحب نصاب نہیں اور یہ ملنے والی قم تنہا یا دیگر اموال کے ساتھ مل کر نصاب کو پہنچتی ہو تو اب وہ صاحب نصاب ہوجائے گا اور سال گزرنے پر شرائط پائی جانے کی صورت میں زکوۃ فرض ہوگی اور اگر وہ پہلے سے صاحب نصاب ہے تو نصاب کا سال پورا ہونے پر یہ رقم بھی نصاب میں شامل ہوگی اور شرائط پائے جائیں تو زکوۃ لازم ہوگی۔فیضان زکوۃ میں ہے:” سرکاری یا نجی اداروں کے ملازمین کو سال کے آخر پرکچھ مخصوص رقم تنخواہ کے علاوہ بھی دی جاتی ہے جسے بونس کہتے ہے ۔یہ ایک طرح کا انعام ہے جس کی شرعی حیثیت مالِ موہوب (یعنی ہبہ کئے ہوئے مال) کی ہے چنانچہ اس پر قبضہ کے بغیر ملکیت ثابت نہیں ہوگی ،ملازم بعدِ قبضہ ہی اس کا مالک ہوگا پھر اگر وہ تنہا یا دیگر اموالِ زکوٰۃ سے مل کر نصاب کو پہنچے تب اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی ۔“

(فیضان زکوۃ،صفحہ49)

Add your Comment