اگر سعی میں کندھا کھلا رہ گیا تو کیا حکم ہے؟
سعی میں اگر کندھا کھلا رہا گیا تو کوئی کفارہ لازم نہیں آئے گا کیونکہ سعی میں ستر عورت سعی کرنے کے اعتبار سے سنت ہے البتہ لوگوں کے سامنےستر عورت کا جوحکم ہے وہ اپنی جگہ باقی رہے گا۔ارشاد الساری میں سعی کی سنتوں کی فصل میں ہے:”وستر العورۃ ای سنہ فیہ مع انہ فرض فی کل حال لئلا یتوھم وجوب الجزاء بترکہ او لانہ یاثم بترکہ فی السعی اثم تارک السنۃ لاجل السعی مع ثبوت اثم ترک الفرض“یعنی:اورسعی کی سنتوں میں سے ستر عورت بھی ہے حالانکہ ستر عورت ہر حال میں فرض ہے(یہ وضاحت اس لئے کی تاکہ)سعی میں ستر عورت ترک ہونے کے سبب کفارہ واجب ہونے کا وہم نہ ہو یا اس لئے کہ کہیں ستر عورت چھوڑنے کے سبب اس کے گناہ گار ہونےکا وہم نہ ہو البتہ ستر عورت جو فرض ہے اس کے چھوڑنے کے سبب وہ گناہ گار ہوگا۔
(ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری،صفحہ254)