اس شعر کی وضاحت کردیں ”خدا کہتے نہیں بنتی جدا کہتے نہیں بنتی خدا پر اس کو چھوڑا ہے وہی جانے کہ کیا تم ہو؟
یہ شعر حضورﷺ کی نعت پر مشتمل ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ نبی پاک ﷺ خدا نہیں ہیں بلکہ خدا کے محبوب ہیں اور اللہ پاک نے نبی کریم ﷺ کو اپنی بارگاہ کا ایسا قرب عطا فرمایا ہے کہ جو نہ کسی کو ملا نہ مل سکتا ہے،اس اعتبار سے حضورﷺ کو جدا بمعنی دور بھی نہیں کہہ سکتے۔حضورﷺ کی حقیقت کو ہم نہیں سمجھ سکتے،یہ معاملہ ہم نے اللہ ہی پر چھوڑا ہی وہی جانتا ہے کہ حضورﷺ کی ذات کی حقیقت کیا ہے۔اللہ پاک فرماتا ہے:” مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ“ترجمہ:جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا۔
(النساء:80)
حدیث پاک میں ہے:”یا ابا بکر!والذی بعثنی بالحق لم یعرفنی حقیقۃ غیر ربی“ ترجمہ:اے ابو بکر اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا میری حقیقت کو میرے رب کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
(مطالع المسرات،صفحہ129)