کیا عورت شوہر کی اجازت سے آئی برو بنا سکتی ہے؟
ابرو بنوانا ناجائز اور گناہ ہے اور حدیث پاک میں ایسی عورتوں پر لعنت کی گئی ہے اور جس کام کی شرعا ممانعت ہو وہ کام نہ شوہر کے کہنے پر کرسکتے ہیں نہ ہی والدین کے کہنے پر کیونکہ اللہ و رسول کا حکم ساری مخلوق پر مقدم ہے اور اللہ پاک کی نافرمانی والے کام میں کسی کی اطاعت جائز نہیں۔شوہر کے لئے بھی وہی زینت اختیار کرنے کی اجازت ہے جس کی شرعا اجازت ہو۔بخاری شریف میں ہے:”لعن اللہ الواشمات و الموتشمات و المتنمصات و المتفلجات للحسن المغيرات خلق اللہ”ترجمہ:اللہ پاک کھال گودنے اور گودوانے والی،بال اکھاڑنے والی،خوبصورتی کے لئے دانتوں میں مصنوعی فاصلہ بنانے والی اور اللہ پاک کی تخلیق کو بدلنے والی پر لعنت فرماتا ہے۔
(بخاری، صفحہ 1234)
بخاری شریف میں ایک پورا باب ہے ”ما تطیع المرآۃ زوجھا فی معصیۃ“ یعنی بیوی گناہ کے کام میں اپنے شوہر کی اطاعت نہ کرے۔
(بخاری،کتاب النکاح،باب لا تطیع المرآۃ زوجھا فی معصیہ،صفحہ 1327،دار ابن کثیر)