اذان فجر کے بعد بھی چند لقمے کھا لئے تو روزے کا کیا حکم ہے؟
صبح صادق کے بعد بھی اگر کھانا پینا جاری رکھا تو روزہ نہ ہوا، اس روزے کی قضا لازم ہے اور جان کر ایسا کیا تو گناہ گار بھی ہوئے۔فتاوی رضویہ میں ہے:”اس رمضان شریف میں پانچ بجے تک کسی طرح وقت نہ تھا جبکہ پانچ بجے تک سحری کھائی تور وزہ بلاشبہ ہواہی نہیں کہ توڑنا صادق آئے، قضا لازم ہے اور کفارہ نہیں۔“
(فتاوی رضویہ،جلد10،صفحہ519)