کیاروزے میں استنجا کرتے وقت احتیاط کرنی چاہیے؟
بعض لوگ اس مسئلہ سے غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں مگر تفصیل اس کی یہ ہے کہ روزہ دار کے لئے بہتر یہی ہے کہ استنجا کرتے وقت اوپر کو سانس قوت سے نہ کھینچے مگر صرف زور سے سانس لینے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا نہ مطلقا پانی چڑھنے سے ٹوٹے گا بلکہ روزہ اس صورت میں ٹوٹے گا جب پانی موضع حقنہ تک پہنچے اور جب ایسا ہوگا تو شدید درد ہوگا۔فتاوی رضویہ میں ہے:” روزہ دار کو یہ بہتر توہے کہ استنجا کرنے میں اوپرسانس بقوت نہ لے مگر اس قدر سے روزہ نہ جائے گا، نہ مطلقاً پانی چڑھنے سے جب تک پانی موضع حقنہ تک نہ پہنچے، اور ایساہوگا تودردشدید پیداہوگا۔“ (فتاوی رضویہ،جلد23،صفحہ680)