میری بیٹی کی قبر جہاں ہے وہاں چاروں طرف قبریں ہیں اور جانے کا راستہ نہیں تو میں قبروں پر چل کر جاتا ہوں اور جس قبر پر پاؤں پڑ جائے اس کے لئے درود شریف پڑھ لیتا ہوں؟

میری بیٹی کی قبر جہاں ہے وہاں چاروں طرف قبریں ہیں اور جانے کا راستہ نہیں تو میں قبروں پر چل کر جاتا ہوں اور جس قبر پر پاؤں پڑ جائے اس کے لئے درود شریف پڑھ لیتا ہوں؟

اسلام نے مسلمانوں کی حرمت کو ان کی وفات کے بعد بھی باقی رکھا ہے کہ ان کی قبروں پر پاؤں رکھنا، اس کو راستہ بنانا،اس پر چلنا یہاں تک کہ کسی راستے کے بارے میں گمان بھی ہو کہ یہ قبروں کو ختم کر کے بنایا گیا ہے اس پر بھی چلنا حرام قرار دیا ہے،لہذا آپ پر لازم ہے کہ اس فعل سے توبہ کریں اور آئندہ قبرستان کے باہر سے ہی یا ایسی جگہ جہاں قبریں نہ ہوں نہ ہی قبریں مسمار کر کے راستہ بنایا گیا ہو وہاں کھڑے ہو کر دعا و ایصال ثواب کا اہتمام کریں۔حدیث پاک میں ہے:” مجھے آگ کی چنگاری پر یا تلوار پر چلنا یا میرا پاؤں جوتے میں سی دیا جانا زیادہ پسند ہے اس سے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر چلوں۔

(ابن ماجہ،حدیث1568)

درمختار میں ہے:”ویکرہ المشی فی طریق ظن انہ محدث“ترجمہ:ایسےنئے راستے پر چلنا ناجائز ہے جس کے بارے میں گمان ہو کہ یہ قبریں ختم کر کے بنایا گیا ہے۔(3/183)

Add your Comment