روزے کاکفارہ اور فدیہ ایک ہی فقیر کو دینا
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ کیا روزے کا کفارہ اور روزوں کا فدیہ ایک ہی دن میں کسی ایک شرعی فقیر کو دے سکتے ہیں یا نہیں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
صورت مستفسرہ کے مطابق روزوں کا کفارہ تو ایک وقت میں ایک ہی شرعی فقیر کو نہیں دے سکتے اگر ایک شرعی فقیر کو ساٹھ روزوں کے کفارے ایک ہی دن میں دے دیے، تب بھی ایک ہی دن کا کفارہ ادا ہوگا البتہ روزوں کا فدیہ جس پر لازم ہے وہ اس کو بیک وقت ایک ہی شرعی فقیر کو دے سکتا ہے۔
اللہ تعالی ارشادفرماتاہے
﴿فَمَنۡ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَیۡنِ مِنۡ قَبْلِ اَنۡ یَّتَمَآسَّا فَمَنۡ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیۡنَ مِسْکِیۡنًا﴾
ترجمہ:پھر جو ان میں کچھ نہ پائے تولگاتاردومہینےکےروزے،قبل اس کےکہ ایک دوسرے کوہاتھ لگائیں پھرجس سےروزےبھی نہ ہوسکیں توساٹھ مسکینوں کاپیٹ بھرنا۔(القرآن،سورۃ المجادلہ،پارہ28،آیت4)
سنن دار قطنی میں ہے
”عن ابی هريرة ان النبی صلى الله عليه وسلم امرالذی افطر يومامن رمضان بكفارةالظهار“
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ ایک شخص نےرمضان کاروزہ توڑاتونبی صلی اللہ علیہ وسلم نےاسےظہارکاکفارہ اداکرنےکاحکم دیا۔(سنن دارقطنی،کتاب الصیام،باب القبلۃ للصائم،جلد3،صفحہ167،بیروت)
خلاصۃالفتاوی میں ہے
”كفارة الفطر وكفارة الظهار واحدة ، وهی عتق رقبة مؤمنة او كافرة فان لم يقدرعلى العتق فعليه صيام شهرين متتابعين،وان لم يستطع فعليه اطعام ستين مسكينا “
ترجمہ:روزہ توڑنےاور ظہارکاکفارہ ایک ہی ہےکہ مسلمان یاکافرگردن آزادکرے،اگراس پرقدرت نہ ہوتودوماہ کےلگاتارروزےرکھے اوراگراس پربھی قدرت نہ ہوتو ساٹھ مسکینوں کوکھانادے۔(خلاصۃالفتاوی،کتاب الصوم،الفصل الثالث،ج1،ص261،مطبوعہ کوئٹہ)
ہدایہ میں ہے
”وان اطعم مسکینا واحدا ستین یوما اجزاہ وان اعطاء فی یوم واحد لم یجزہ الا عن یومہ“
اگر کسی نے ایک مسکین کو ساٹھ دن تک کھانا کھلایا تو یہ اسے کافی ہے اور اگر ایک دن میں ہی اس کو تمام دے دیا تو یہ اسے کافی نہیں ہوگا اور ایک دن کا ہی ادا ہوگا۔(ھدایہ، جلد 4 ،صفحہ 271، مطبوعہ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
”ایک مسکین کو ساٹھ دن تک دونوں وقت کھلایا یا ہر روز بقدر صدقہ فطراُسے دیدیا جب بھی اد ا ہوگیا اور اگر ایک ہی دن میں ایک مسکین کو سب دیدیا ایک دفعہ میں یا ساٹھ دفعہ کر کے یا اُس کو سب بطور اباحت دیا تو صرف اُس ایک دن کا ادا ہوا۔ یوہیں اگر تیس مساکین کو ایک ایک صاع گیہوں ديے یا دودو صاع جَو تو صرف تیس کو دینا قرار پائیگا یعنی تیس مساکین کو پھر دینا پڑے گا یہ اُس صورت میں ہے کہ ایک دن میں ديے ہوں اور دودنوں میں ديے تو جائز ہے۔“(بہار شریعت ، جلد2، حصہ8، صفحہ216، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
ارشاد باری تعالیٰ ہے
”وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ“
ترجمۂ کنزالایمان:اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا۔ (سورة البقرہ،آیت نمبر:184)
تفسیر سمر قندی میں ہےحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا:
”إنما هي للشيخ الكبير والمرأة الكبيرة اللذين لا يستطيعان أن يصوما“
یعنی یہ آیت صرف شیخِ فانی (بوڑھے مرد)اور بوڑھی عورت کے لیے ہےجو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے۔(تفسیرالسمرقندی،جلدنمبر1،صفحہ نمبر 122 ،مطبوعہ، بیروت)
نورالایضاح ونجاۃ الارواح میں ہے
”يجوز الفطر لشيخ فان وعجوز فانية وتلزمهما الفدية“
یعنی: شیخ فانی (بوڑھے مرد)اور بوڑھی عورت کے لئے روزہ نہ رکھنا جائز ہے اور ان دونوں پر فدیہ لازم ہے۔ (نورالایضاح ونجاۃ الارواح، کتاب الصوم، فصل فی العوارض،صفحہ 141، مطبوعہ، المکتبۃ العصریہ)
الدر المختار شرح تنویر میں ہے
”ويفدي وجوبا ولو في أول الشهر وبلا تعدد فقير كالفطرة“
یعنی شیخِ فانی واجب طور پر فدیہ دے گا، اگرچہ مہینے کے شروع میں ہی دے دے فطرے کی طرح فقیر کے متعدد ہونے کے بغیر۔(یعنی جس طرح فطرہ ایک ہی فقیر کو دینا درست ہے اسطرح روزوں کا فدیہ بھی ایک ہی فقیر کو دینا درست ہے۔)(الدر المختار شرح تنویر،جلد نمبر1، صفحہ150، مطبوعہ ،دار الکتب العلمیہ)
فتویٰ رضویہ میں سوال ہوا:
”متعدد روزوں کا فدیہ کل ایک ہی دن ایک شخص کودے سکتے ہیں یا روز روز دوسرے دوسرے کو دینا چاہئے؟ “
جواباآپ فرماتے ہیں:
”فدیہ نماز و روزہ میں سوال پنجم کی چاروں صورتیں تو بلا شبہ جائز ہیں۔“(فتویٰ رضویہ ،جلد 10، صفحہ 527، رضا فائونڈیشن، لاہور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
15جمادی الاول 1445ھ30نومبر 2023ء