سوال:بغیر کسی شرعی عذر کے شلوار کے ساتھ صرف بنیان پہن کر نماز پڑھنا کیسا؟
یوزر آئی ڈی:تنویر حسین انجم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کپڑے موجود ہوتے ہوے صرف بنیان میں نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی یعنی نا پسندیہ عمل ہے کیونکہ ہر ایسے لباس میں نماز پڑھنا جسے پہن کر بندہ معزز لوگوں کی دعوت میں نہ جا سکے مکروہ تنزیہی ہے لہذا مکمل صاف ستھرے کپڑے پہن کر نماز پڑھی جائے۔ درمختارمیں ہے: (وصلاته في ثياب بذلة) يلبسها في بيته (ومهنة) أي خدمة) یعنی مکروہ ہے اسکی نماز ایسے کپڑوں میں جن کو گھر میں اور کام کاج کیلئے پہنتا ہے۔ اسکے تحت شامی میں ہے:قال في البحروفسرها في شرح الوقاية بما يلبسه في بيته ولا يذهب به إلى الأكابر، والظاهر أن الكراهة تنزيهية. یعنی بحر میں ہے اور اسکی وضاحت شرح وقایہ میں ہے یعنی جو لباس گھر میں پہنتا ہے اور ایسا لباس پہن کر معززین کے پاس نہیں جاتااور ظاہر ہے کہ کراہت تنزیہی ہے۔
(ردالمحتار علی الدر المختار،کتاب الصلاۃ،باب مایفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا،فروع،جلد1،صفحہ641،دارالفکر،بیروت)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :جس کے پاس کپڑے موجود ہوں اور صرف نیم آستین یعنی آدھی آستین یا بنیان پہن کر نماز پڑھتا ہے تو کراہت تنزیہی ہے اور کپڑے موجود نہیں تو کراہت بھی نہیں۔
(فتاویٰ امجدیہ حصہ 1 صفحہ 193)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ
انتظار حسین مدنی کشمیری
6محرم الحرام1444ھ/25جولائی 2023 ء