میت کا جنازہ ایک سے زائد بار پڑھنا

سوال:کیا میت کا جنازہ دو شہروں میں پڑھ سکتے ہیں؟

یوزر آئی ڈی:صغیر احمد

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اگر میت کے ولی نے نماز جنازہ پڑھ لی ہو تو نماز جنازہ دوبارہ پڑھنا جائز نہیں ہاں اگر ولی نے نماز جنازہ نہ پڑھی ہو تو دوبارہ نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے لیکن اس میں بھی وہی شریک ہوں گے جنہوں نے پہلے جنازے میں شرکت نہ کی ہو۔ فتاوی ہندیہ میں ہے: ’’لو صلی علیہ الولی وللمیت أولیاء أخر بمنزلتہ لیس لہم أن یعیدوا، کذا فی الجوہرۃ النیرۃ‘‘ یعنی اگرمیت پرایک ولی نے نماز پڑھ لی اورمیت کے اسی درجہ کے کئی اوراولیابھی ہوں تو ان کے لئے نمازجنازہ کا اعادہ جائز نہیں ،ایسا ہی جوہرہ نیرہ میں ہے ۔ ‘‘

(فتاوی ہندیہ ،کتاب الصلوۃ ،الفصل الخامس فی الصلوۃ علی المیت،جلد1،صفحہ164،کوئٹہ )

بہارشریعت میں ہے:’’ولی کے سوا کسی ایسے نے نماز پڑھائی جو ولی پر مقدم نہ ہو اورولی نے اُسے اجازت بھی نہ دی تھی تو ا گر ولی نماز میں شریک نہ ہوا تو نماز کا اعادہ کر سکتا ہے اور اگر مردہ دفن ہوگیا ہے تو قبر پر نماز پڑھ سکتا ہے اور اگر وہ ولی پر مقدم ہے جیسے بادشاہ و قاضی و امام محلہ کہ ولی سے افضل ہو تو اب ولی نماز کا اعادہ نہیں کر سکتا اور اگرایک ولی نے نماز پڑھا دی تو دوسرے اولیاء اعادہ نہیں کر سکتے اور ہر صورت اعادہ میں جو شخص پہلی نماز میں شریک نہ تھا وہ ولی کے ساتھ پڑھ سکتا ہے اور جو شخص شریک تھا وہ ولی کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا ہے کہ جنازہ کی دو مرتبہ نماز ناجائز ہے سوا اس صورت کے کہ غیر ولی نے بغیر اذن ولی پڑھائی ۔‘‘

(بہارشریعت ،حصہ 4،صفحہ 838،مکتبہ المدینہ )

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ

انتظار حسین مدنی کشمیری

16محرم الحرام1445ھ/4 اگست 2023 ء

Add your Comment