میت کو غسل دینے والے کا پانی میں ہاتھ ڈالنا

سوال:میت کو غسل دینے والے نے بے وضو ہونے کی حالت میں پانی میں بیری کے پتے ہاتھ سے ملائے تو کیا اب اس پانی کے ساتھ میت کو غسل دے سکتے ہیں ؟

یوزر آئی ڈی:صغیر احمد

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

سوال میں پوچھی گئی صورت میں اگر غسل والا پانی الگ تھا اور پتوں والا مستعمل پانی الگ تھا اور پہلے غیر مستعمل پانی سے غسل دیا پھر اس پر پتوں والا پانی ڈالا تو حرج نہیں اوراگر اسی پانی میں بے دھلے ہاتھ سے پتے ملائے جس سے غسل دینا ہے تو اب اس پانی سے میت کو غسل نہیں دیا جا سکتا کیونکہ بدن کا کوئی حصہ جو وُضو میں دھویا جاتا ہو بغیر دھوئے پانی میں پڑ گیا تو وہ پانی مستعمل ہو جائے گا اس سے وضو اور غسل نہیں کر سکتے۔صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: اگر بے وُضو شخص کا ہاتھ یا انگلی یا پَورایا ناخن یا بدن کا کوئی ٹکڑا جو وُضو میں دھویا جاتا ہو بقصد یا بلا قصد دَہ در دَہ سے کم پانی میں بے دھوئے ہوئے پڑ جائے تو وہ پانی وُضو اور غُسل کے لائق نہ رہا۔ اسی طرح جس شخص پر نہانا فرض ہے اس کے جِسْم کا کوئی بے دُھلاہوا حصہ پانی سے چھو جائے تو وہ پانی وُضو اور غُسل کے کام کانہ رہا۔ اگر دُھلا ہوا ہاتھ یا بدن کا کوئی حصہ پڑ جائے تو حَرَج نہیں۔ ۔۔۔پانی میں ہاتھ پڑگیایا اَور کسی طرح مستعمل ہو گیا اور یہ چاہیں کہ یہ کام کا ہو جائے تو اچھا پانی اس سے زِیادہ اس میں مِلادیں، نیز اس کا یہ طریقہ بھی ہے کہ اس میں ایک طرف سے پانی ڈالیں کہ دوسری طرف سے بہ جائے سب کام کا ہو جائے گا۔ (بہارِ شریعت ،جلد اول،حصہ دوم،صفحہ334،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ

انتظار حسین مدنی کشمیری

16محرم الحرام1445ھ/4 اگست 2023 ء

Add your Comment