سوال:وضو میں داڑھی دھونے کے متعلق تفصیلی حکم بتائیں ؟
یوزر آئی ڈی:پارٹی سپنٹ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
داڑھی گھنی ہو یعنی جلد نظر نہ آتی ہو تو داڑھی کو گلے کی طرف دبانے سے جتنے بال چہرے کے دائرے میں آئیں ان کی اوپر والی سطح کا دھونا فرض ہے اس سے نیچے کو بال لٹکے ہوں انہیں دھونا فرض نہیں البتہ دھو لینا مستحب ہے اور ان بالوں کا خلال کرنا سنت ہے اور اگر داڑھی گھنی نہ ہو یعنی اس میں سے جلد بھی نظر آ رہی ہو تو چہرے کی حد میں آنے والے بالوں کے ساتھ جلد کا دھونا بھی فرض ہے ۔ نور الایضاح میں ہے:يجب غسل ظاهر اللحية الكثة في أصح ما يفتى به ويجب إيصال الماء الى بشرة اللحية الخفيفةولا يجب إيصال الماء الى المسترسل من الشعر عن دائرة الوجه ترجمہ: گھنی داڑھی کے ظاہری حصہ کو دھونا فرض ہے اصح ،مفتی بہ قول کے مطابق اور ہلکی داڑھی کی جلد تک پانی پہنچانا فرض ہے اور چہرے کے ارد گرد لٹکے ہوے بالوں تک پانی پہنچانا فرض نہیں ۔
(نور الإيضاح مع مراقی الفلاح ، صفحة 30،المکتبۃ العصریہ)
اسی میں وضو کی سنتوں کے بیان میں ہے:وتخليل اللحية الكثة بكف ماء من أسفلها ترجمہ: اور داڑھی کے نیچے سے گھنی داڑھی کا خلال کرنا پانی والی ہتھیلی کے ساتھ (سنت ہے)۔
(نور الإيضاح مع مراقی الفلاح ، صفحة 33،المکتبۃ العصریہ)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ
انتظار حسین مدنی کشمیری
16محرم الحرام1445ھ/4 اگست 2023 ء