درندے جانوروں کے متعلق فقہی قاعدہ

سوال:کیا ہر درندے جانور کو کھانا حرام ہے؟

یوزر آئی ڈی:بلال فیصل بلوانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

درندوں کے حرام ہونے کے متعلق شرعی قاعدہ ہے کہ ہر وہ درندہ جو نوکیلے دانتوں والا ہو اور ان دانتوں سے وہ شکار بھی کرتا ہو تو ایسے درندے حرام ہیں جیسے کتا،شیر،چیتا،بھیڑیا وغیرہ ۔ حضرت سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عن کل ذی ناب من السباع و عن کل ذی مخلب من الطیر‘‘ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر نوکیلے دانت والے درندے اورپنجے والےپرندے(کو کھانے)سے منع فرمایا۔

(صحیح مسلم،ج2،ص147، مطبوعہ کراچی)

جوہرہ نیرہ میں ہے: ’’(لایجوز اکل کل ذی ناب من السباع ولاذی مخلب من الطیر)المراد من ذی الناب ان یکون لہ ناب یصطاد بہ وکذا من ذی المخلب‘‘ترجمہ:’’نوکیلے دانت والے درندوں اور پنجوں والے پرندوں کا کھانا،جائزنہیں ہے‘‘اورنوکیلے دانتوں سے مرادیہ کہ اُس کےایسے نوکیلے دانت ہوں،جن سے وہ شکار کرتا ہو اور اسی طرح پنجوں سے مرادیہ ہے کہ اُن سے وہ پرندہ شکار بھی کرتا ہو۔

(الجوھرۃ النیرۃ،ج2،ص265،قدیمی کتب خانہ،کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ

انتظار حسین مدنی کشمیری

25محرم الحرام1445ھ/10 اگست 2023 ء

Add your Comment