مانگنے والے فقیروں میں سے کسے دینا جائز و ناجائز

سوال:گھروں پر جو فقیر مانگنے آتے ہیں ان میں کس کو دے سکتے ہیں اور کس کو نہیں دے سکتے کیسے پتہ چلے؟

یوزر آئی ڈی:خالد محمود عطاری

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

پیشہ ور فقیروں کو کچھ دینا ناجائز و حرام ہے جو دکھنے میں تندرست،کمانے کے لائق ہو اسے نہیں دے سکتے اور جو مستحق نظر آئے اسے دے سکتے ہیں۔امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :’’جو اپنی ضروریات شرعیہ کے لائق مال رکھتا ہے یا اس کے کسب پر قادر ہے اُسے سوال حرام ہے اور جو اس مال سے آگاہ ہو اُسے دینا حرام، اور لینے اور دینے والا دونوں گنہگار و مبتلائے آثام۔ صحاح میں ہے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فر ماتے ہیں:’’لاتحل الصدقۃ لغنی ولذی مرۃ سوی ترجمہ:صدقہ حلال نہیں ہے کسی غنی کے لیے، نہ کسی تندرست کے لیے۔

(ملخص ازفتاوی رضویہ ،جلد 10،صفحہ306،307،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

مزید ایک جگہ فرماتے ہیں: قوی تندرست قابل کسب جو بھیک مانگتے پھرتے ہیں ان کو دینا گناہ ہے کہ ان کا بھیک مانگنا حرام ہے اور ان کودینے میں اس حرام پرمدد، اگر لوگ نہ دیں تو جھک ماریں اور کوئی پیشہ حلال اختیار کریں۔درمختار میں ہے: لایحل ان یسأل شیئا من القوت من لہ قوت یومہ بالفعل اوبالقوۃ کا لصحیح المکتسب ویأثم معطیہ ان علم بحالہ لاعانتہ علی المحرم “یہ حلال نہیں کہ آدمی کسی سے روزی وغیرہ کا سوال کرے جبکہ اس کے پاس ایک دن کی روزی موجود ہو یا اس میں اس کے کمانے کی طاقت موجود ہو، جیسے تندرست کمائی کرنے والا، اور اسے دینے والا گنہگار ہوتا ہے اگر اس کے حال کو جانتا ہے کیونکہ حرام پر اس نے اس کی مدد کی۔

(فتاوی رضویہ ،جلد 23،صفحہ463،464،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ

انتظار حسین مدنی کشمیری

26محرم الحرام1445ھ/11 اگست 2023 ء

Add your Comment