کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا غیر عربی شخص عربی عورت کا کفو ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
صورتِ مسئولہ میں غیر عربی شخص عربی عورت کا کفو (یعنی ہم پلہ)نہیں ہے ، کہ اہلِ عجم(یعنی غیر عربی) میں نسب معتبر نہیں ہے ، مگر عالم دین (سنی صحیح العقیدہ )کہ اس کی شرافت نسب کی شرافت پر فوقیت رکھتی ہے ۔لہذا اگر ایک جاہل غیر عربی مرد کسی عربی عورت سے اس کی ولی کی اجازت کے بغیر بھاگ کر نکاح کرے گا تو نکاح نہیں ہوگا۔
فتاوی خیریہ میں ہے :
” قال ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما للعلماء درجات فوق المؤمنین بسبعمائۃ درجۃ مابین کل درجتین مسیرۃ خمسمائۃ عام و ھذا مجمع علیہ وکتب العلم طافحۃ بتقدم العالم علی القرشی ولم یفرق سبحانہ وتعالٰی بین القرشی وغیرہ فی قولہ تعالی ھل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون “
ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: علماء کو عام مومنین پر سات سو درجات برتری ہے اور ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کا سفر ہے اور اس پر اجماع ہے اور تمام علمی کتب، قرشی پر عالم کے تقدم میں متفق ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد _ کیا عالم اور جاہل برابر ہیں_ میں قرشی اور غیر قرشی کی کوئی تفریق نہیں فرمائی ۔ (فتاوی خیریہ ، مسائل شتی آخر کتاب، جلد 2 ،صفحہ 234 ، دار المعرفۃ بیروت)
بدایع صنائع میں ہے:
” والموالي بعضهم أكفاء لبعض، ولا يكون الموالي أكفاء للعرب ولا لقريش.قال شيخ الإسلام المعروف بخواهر زاده رحمه الله: الكفاءة فيما بين الموالي تعتبر بالإسلام لا بالنسب لأن الموالي ضيعوا أنسابهم فلا يعتبر النسب في حقهم۔۔۔والعالم يكون كفئا للعلوية لأن للعالم شرف الكسب يعني به كسب العلم وللعلوية شرف النسب، وشرف الكسب أولى“
ترجمہ : اور موالی (غیر عربی ) آپس میں ایک دوسرے کے کفو ہیں ، اور غیر عربی اہلِ عرب اور قریش کا کفو نہیں ہیں ۔ شیخ الاسلام المعروف خواہر زادہ رحمہ اللہ نے فرمایا : عجمیوں(غیر عربی) میں کفو کے طور پر اسلام کا اعتبار کیا جائے گا نہ کہ نسب کا ،کیونکہ عجمیوں نے اپنا نسب ضائع کر دیا اس وجہ سے ان کے حق میں نسب معتبر نہیں ہے۔ اور عالم علوی عورت کا کفو ہے کیونکہ عالم کیلئے کسب کی شرافت ہے یعنی کسبِ علم کی اور علوی عورت کیلئے نسب کی شرافت ہے ، اور کسب کی شرافت اولی ہے ۔ ( بدایع صنائع ،فصل فی الکفاءۃ ، جلد 3 ،صفحہ 21 ،دار الکتب العلمیہ بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
” الكفاءة تعتبر في أشياء (منها النسب) ۔۔۔والموالي وهم غير العرب لا يكونون أكفاء للعرب والموالي بعضهم أكفاء لبعض، كذا في العتابية قالوا: الحسيب كفء للنسيب ذكره قاضي خان والعتابي في جوامع الفقه وفي الينابيع والعالم كفء للعربية والعلوية “
ترجمہ : یعنی جن چیزوں میں کفو معتبر ہے ان میں سے ایک نسب ہے ، اور موالی اور وہ غیر عرب ہیں یہ اہل عرب کا کفو نہیں ہیں اور موالی آپس میں ایک دوسرے کا کفو ہیں ،ایسے ہی عتابیہ میں ہے ، فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ حسب والا نسب والے کا کفو ہے حتی کہ فقیہ عالم علوی عورت کا کفو ہے ، علامہ قاضی خان نے جوامع الفقہ میں اور علامہ عتابی ینابیع میں ذکر کیا ہے کہ عالم عربی عورت اور علوی عورت کا کفو ہے۔ ( فتاوی عالمگیری ، الباب الخامس فی الاکفاء فی النکاح، جلد 1،صفحہ 290 دار الکتب العلمیہ بیروت)
وجیز الامام الکردری علٰی ھامش میں ہے :
” العجمی العالم کفو للعربی الجاھل لان شرف العلم اقوی وارفع، وکذا العالم الفقیر لغنی الجاھل، وکذا العالم الذی لیس بقرشی کفو للجاھل القرشی والعلوی “
ترجمہ : عجمی عالم، جاہل عربی کا کفو ہوگا کیونکہ علمی شرافت اقوی وارفع ہے، اور یوں ہی عالم فقیر ہو تووہ جاہل غنی کا کفو ہوگا اور یوں ہی غیر قرشی عالم جاہل علوی اور جاہل قرشی کا کفو بنے گا ۔ ( وجیز الامام الکردری علٰی ھامش، فصل فی الکفاءۃ ، نورانی کتب خانہ پشاور،جلد 4، صفحہ 116)
بہار شریعت میں ہے:
” عجمی النسل عربی کا کفو نہیں مگر عالمِ دین کہ اس کی شرافت نسب کی شرافت پر فوقیت رکھتی ہے ۔“ (بہار شریعت ، کفو کا بیان ،حصہ ہفتم، جلد 2 ، مکتبۃ المدینہ کراچی)
واللہ اعلم باالصواب
کتبہ
ارشاد حسین عفی عنہ
25/05/2023