کسی غیر مسلم سے بغیر سود کی نیت سے نفع لینا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس بارے میں کہ کسی غیر مسلم سے سود کا معاملہ کرنا، یا سود کا لین دین کرنا بھی گناہ ہے؟

سائل: شاہ رخ میمن

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

غیر مسلم اور مسلمان کے درمیان سود متحقق نہیں ہوتا، البتہ غیر مسلم کو بلا ضرورت زیادتیinterestدینا جائز نہیں۔ نیز یہ بھی یاد رہے کہ غیر مسلم سے زیادتی interest ”سود“ سمجھ کر لینا گناہ ہے، بغیر سود کی نیت کے اور بغیر اسے دھوکہ دئیے کافر کی رضا مندی کے ساتھ جو زیادتی اس سے لی جائے، شرعا مسلمان کے لیے مباح ہوتی ہے۔ لیکن اگر غیر مسلم کمپنی یا غیر مسلم بینک سے ایسا معاملہ ہو رہا ہے کہ جس میں زیادتی مسلمان کو ملے گی، تو اس میں یہ بھی لحاظ رکھنا ہوگا کہ اس کمپنی یا بینک کا کوئی شیئر ہولڈر مسلمان نہ ہو۔

شیخ الإسلام والمسلمین امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان� (المتوفی: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”اﷲ عزوجل نے سود کو حرام فرمایا اور اس میں کوئی تخصیص مسلم وکافر کی نہیں رکھی، مطلق ارشاد ہوا ہے” وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ”ترجمہ : اور اﷲ تعالی نے سود کوحرام کردیا۔ (سورۃ البقرۃ2، آیت نمبر 275) تو اسے سود قرار دے کرلینا جائز نہیں، ا ور اگر کسی کمپنی میں کوئی مسلمان بھی حصہ دار ہو تو مطلقاً اس زیادہ روپیہ کا لینا حرام ہے، اور اگر کوئی مسلمان حصہ دار نہیں تو سود کی نیت کرنا ناجائز ہے بلکہ یوں سمجھے کہ ایک مال مباح بلا غدر مالکوں کی خوشی سے ملتا ہے یوں اس کے لینے میں فی نفسہ کوئی حرج نہیں اوراسے چاہے اپنے صرف میں لائے، چاہے کارخیر میں لگائے۔“

(فتاوی رضویہ، جلد نمبر 17، صفحہ نمبر 339، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن لاہور)

آپ � مزید ارشاد فرماتے ہیں:” جو کافر نہ ذمی ہو نہ مستامن سوا غدر(دھوکہ) بدعہدی کے کہ مطلقاً ہر کا فر سے بھی حرام ہے، باقی اس کی رضا سے اس کا مال جس طرح ملے جس عقد کے نام سے ہو مسلمان کے لئے حلال ہے۔ “

( فتاوی رضویہ، جلد نمبر17، صفحه نمبر 348، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن لاہور )

فقیہِ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی � (المتوفی: 1423ھ/2001ء) سے ہندوستانی بینک سے قرض لینے کا سوال ہوا تو ارشاد فرمایا:”یہاں کے کفار حربی ہیں جیسا کہ رئیس الفقہاء حضرت ملا جیون رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں ۔﴿ان ھم﴾الا حربی﴿ وما یعقلھا الا العالمون﴾ (تفسیرات احمدیہ ص ۳۰۰) اور حکومت انہیں کافروں کی ہے ۔اور مسلمان وکافر کے درمیان سود نہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے ۔”لا ربا بین المسلم والحربی فی دار الحرب “اور دار الحرب کی قید واقعی ہے نہ کہ احترازی، لہذا یہاں کی حکومت کے بینکوں سے نفع لینا جائز ہے کہ وہ شرعا سود نہیں۔لیکن ان کو نفع دینا جائز نہیں، ہاں اگر تھوڑا نفع دینے میں اپنا زیادہ نفع ہو تو جائز ہے۔ جیسا کہ ردالمحتار جلد ۵ ص ۱۸۸ میں ہے: "الظاہر ان الاباحۃ یفید نیل المسلم الزیادۃ وقد الزم الاصحاب فی الدرس ان مرادھم من حل الربا والقمار ما اذا حصلت الزیادۃ للمسلم” وھو تعالی اعلم“

(فتاوی فیض الرسول، جلد نمبر2، صفحه نمبر 388، مطبوعہ، شبیر برادر)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی � (المتوفی: 1367ھ/1948ء) سودی حرام پیسے کے بارے میں فرماتے ہیں: ”سود حرام ہے … ہاں کُفَّار غیر ذمی سے جو مال بغیر غدر حا صل ہو وہ حلال ہے اور وہ سود نہیں اگر چہ وہ کَافِر سود کہہ کر دیتا ہو مگر اس لینے والے کو چا ہئے کہ اسے سود نہ
سمجھے۔…لان ما لھم مباح فی دارھم۔“

(فتاوی امجدیہ، جلد نمبر3، صفحه نمبر205، مطبوعہ: مکتبہ رضویہ کراچی)

و اللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

مولانا احمد رضا عطاری حنفی

15 شوال المکرم 1444ھ / 6 مئی 2023ء

Add your Comment