نماز میں کتنی قراءت کرنا فرض ہے؟

مختصر سوالات و جواباتCategory: نمازنماز میں کتنی قراءت کرنا فرض ہے؟
1 Answers
anas Staff answered 1 week ago

فرض کی پہلی دو رکعتوں ،وتراور سنت و نوافل میں ایک آیت جس میں کم سے کم چھ حروف ہوں اوردو یا دو سے زائد کلمات ہوںاس کا پڑھنا فرض ہے اورسورۃ الفاتحہ کے بعد کوئی سورت یا تین چھوٹی آیتیں پڑھنا یا ایک بڑی آیت کہ تین کے برابر ہو جس میں کم ازکم 26 حروف ہوں وہ واجب ہے۔ردالمحتار میں ہے ’’فلو قرأ آیۃ طویلۃ قدر ثلاثین حرفا یکون قد أتی بقدر ثلاث آیات لکن سیأتی فی فصل یجہر الإمام أن فرض القراء ۃ آیۃ وأن الآیۃ عرفا طائفۃ من القرآن مترجمۃ أقلہا ستۃ أحرف ولو تقدیرا کلم یلد إلا إذا کانت کلمۃ فالأصح عدم الصحۃ‘‘یعنی اگر ایک آیت طویل بقدر تیس حروف قراء ت کی تو یہ تین آیات کے برابر ہے۔لیکن عنقریب امام کے بلند آواز سے قراء ت کرنے کی فصل میں آئے گا کہ ایک آیت کا پڑھنا فرض ہے اور آیت عرفاقرآن پاک کے ایک مخصوص حصے کا نام ہے اور اس کی کم از کم مقدار چھ حروف ہیں، اگر چہ وُہ لفظاً نہ ہوں بلکہ تقدیراً ہوں مثلاًلم یلد(کہ اصل میں لم یولد تھا)مگر اس صورت میں کہ جب وُہ آیت صرف ایک کلمہ پر مشتمل ہو تو اصح عدمِ صحتِ نماز ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الصلوٰۃ،واجبات الصلاۃ،جلد1،صفحہ458،دار الفکر،بیروت)
لیکن امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کے نزدیک اقرب یہ ہے کہ ایک آیت جس کے 26 حروف ہوں وہ تین آیات کے برابر ہے جیسا کہ آپ نے ردالمحتار کے حاشیہ جدالممتار میں فرمایاہے’’ الأقرب إلی الصواب ستّۃ وعشرون‘‘ (جدالممتار)