Answer for یا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ نماز میں کتنی قراءت کرنا فرض ہے؟

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

نماز میں مطلقا ایک آیت پڑھنا فرض ہے ہے، اور وہ آیت چھ حروف سے کم نہ ہو، اور دو یا دو سے زائد کلمات پر مشتمل ہو، لہذا اگر ایک ہی حرف کی آیت ہو جیسے صٓ، نٓ، قٓ، کہ بعض قراء توں  میں  ان کو آیت مانا ہے، تو اس کے پڑھنے سے فرض ادا نہ ہوگا، اگرچہ اس کی تکرار کرے۔ رہی ایک کلمہ کی آیت جیسے مُدھَامّتٰن تو صرف اس کے پڑھنے سے فرض ادا ہونے میں اختلاف ہے، مگر بہت سے علماء کے نزدیک جواز نماز کو کافی نہیں اس لئے اس بچنے میں  احتیاط ہے۔
قرآن پاک میں ہے:
فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِؕ
ترجمہ: قرآن میں سے جتنا آسان ہو اتنا پڑھو۔
(القرآن الکریم، پ29، المزمل: 20)
تنویر الابصار مع درمختار میں ہے:
“(وفرض القراءة آية على المذهب) أقلها ستة أحرف ولو تقديرا، ك (لم يلد) ، إلا إذا كان كلمة فالأصح عدم الصحة وإن كررها مرارا۔۔۔۔۔ الخ۔
یعنی: مذہب احناف کے مطابق ایک آیت پڑھنا فرض ہے، جو کہ کم سے کم چھ حروف پر مشتمل ہو اگرچہ تقدیر، جیسے کہ
“لم یلد” لہذا اگر آیت ایک ہی کلمہ پر مشتمل ہو تو صحیح قول کے مطابق نماز درست نہیں ہوگی اگرچہ بار بار پڑھے۔
(تنویر الابصار مع درمختار، کتاب الصلاۃ، باب القراءت، جلد1، 537، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ملتقطا)
( تنویر الابصار مع درمختار، کتاب الصلاۃ، فصل ویجہر الامام،
جلد1، ص89، مطبوعہ مجتبائی، دہلی)
ایک کلمہ پر مشتمل آیت کے متعلق
فتاوی ہندیہ میں لکھا ہے :
الاصح انہ لا یجوز کذافی شرح المجمع لابن ملک ،وھکذا فی الظہیریۃ والسراج الوھاج وفتح القدیر۔
ترجمہ: اصح یہی ہے کہ اس سے نماز جائز نہیں شرح مجمع لابن مالک میں اسی طرح ہے۔ظہیریہ ،السراج ، الوہاج اورفتح القدیر میں بھی یوں ہی ہے۔
( فتاوٰی ہندیہ، کتاب الصلاۃ، الباب الرابع فی صفۃ الصلٰوۃ، جلد1، ص68،
مطبوعہ نورانی کتب خانہ، پشاور)
فتح القدیر میں ہے :
لو کانت کلمۃ اسماً او حرفاً نحو مدھامتٰن ص ق ن فان ھذہ اٰیات عند بعض القراء اختلف فیہ علی قولہ والاصح انہ لا یجوز لانہ یسمی عادا لا قارئا۔
ترجمہ: اگر وُہ آیت ایک کلمہ پر مشتمل ہے خواہ اسم ہو یا حرف مثلاً مدھامتٰن ،ص، ق، ن کیونکہ یہ بعض قراء کے نزدیک آیات ہیں ان کے قول پر اس میں اختلاف ہے اور اصح یہی ہے کہ یہ جواز ِ نماز کے لئے کافی نہیں کیونکہ ایسے شخص کو قاری نہیں کہا جاتا بلکہ شمار کرنے والا کہا جاتا ہے۔
(فتح القدیر شرح الہدایۃ، کتاب الصلاۃ، فصل فی القرأۃ ، جلد1، ص289، مطبوعہ نوریہ رضویہ، سکھر)
فتاوی رضویہ شریف میں ایک آیت کی وضاحت فرماتے ہوئے اعلیٰ حضرت علیہ علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
وُہ آیت کہ چھ حرف سے کم نہ ہو اور بہت نے اُس کے ساتھ یہ بھی شرط لگائی کہ صرف ایک کلمہ کی نہ ہو تو ان کے نزدیک مُدھَامّتٰن اگرچہ پُوری آیت اور چھ 6 حرف سے زائد ہے جوازِ نماز کو کافی نہیں۔
(فتاویٰ رضویہ، کتاب الصلاۃج6،ص345۔ 348، رضا فاؤنڈیشن، لاہور، ملتقطا)
بہار شریعت میں ہے:
چھوٹی آیت جس میں  دو یا دو سے زائد کلمات ہوں  پڑھ لینے سے فرض ادا ہو جائے گا اور اگر ایک ہی حرف کی آیت ہو جیسے صٓ، نٓ، قٓ، کہ بعض قراء توں  میں  ان کو آیت مانا ہے، تو اس کے پڑھنے سے فرض ادا نہ ہوگا، اگرچہ اس کی تکرار کرے، رہی ایک کلمہ کی آیت مُدْهَآمَّتٰنِۚ اس میں  اختلاف ہے اور بچنے میں  احتیاط۔
(بہار شریعت، نماز کا بیان، جلد1، ص512، مکتبۃ المدینۃ)
واللّٰه تعالی اعلم بالصواب۔
کتبه: ندیم عطاری مدنی حنفی۔
نظر ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری۔
مورخہ 14 صفرالمظفر 1443ھ بمطابق 22 اگست،2021ء،بروز بدھ