کان سے پانی نکلے تو وضو کا حکم

سوال:کیا کان سے پانی نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

یوزر آئی ڈی:مدثر حسین

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کان سے نکلنے والا پانی اگر زخم سے بہنے والا پانی ہے اور پانی اتنی مقدار میں نکلا کہ وہ کان سے باہر بھی نکل آیا تو وضو ٹوٹ جائے ورنہ نہیں ٹوٹے گا۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:خون ۹ یا پیپ ۱۰ یا زرد ۱۱ پانی کہیں سے نکل کر بہا اور اس بہنے میں ایسی جگہ پہنچنے کی صلاحیت تھی جس کا وُضو یا غسل میں دھونا فرض ہے تو وُضو جاتا رہا اگر صرف چمکا یا اُبھرا اور بہا نہیں جیسے سوئی کی نوک یا چاقو کا کنارہ لگ جاتا ہے اور خون اُبھر یا چمک جاتا ہے یا خِلال کیا یا مِسواک کی یااُنگلی سے دانت مانجھے یا دانت سے کوئی چیز کاٹی اس پر خون کا اثر پایایاناک میں اُنگلی ڈالی اس پر خون کی سُرخی آگئی مگر وہ خون بہنے کے قابل نہ تھا تووُضو نہیں ٹوٹا۔اور اگر بہا مگر ایسی جگہ بہ کر نہیں آیا جس کا دھونافرض ہو تو وُضو نہیں ٹوٹا۔ مثلاً آنکھ میں دانہ تھا اور ٹوٹ کر آنکھ کے اندر ہی پھیل گیا باہر نہیں نکلا یا کان کے اندر دانہ ٹوٹا اور اس کا پانی سوراخ سے باہر نہ نکلا تو ان صورتوں میں وُضو باقی ہے۔

(بہارِ شریعت ،جلد اول،حصہ دوم،صفحہ304،مکتبۃالمدینہ،کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ

انتظار حسین مدنی کشمیری

1 ذوالقعدۃ الحرام 1444ھ/22مئی2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں