صرف طلاق کی نیت کرنے سے طلاق کا حکم

سوال:اگر شوہر طلاق کی نیت کر لے زبان سے طلاق نہ دے تو کیا طلاق ہو جائے گی؟

یوزر آئی ڈی:عبد الکریم کبھار

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

صرف طلاق کی نیت کرنے سے طلاق واقع نہیں ہو گی ۔ طحطاوی میں ہے: لو أجری الطلاق علی قلبہ وحرک لسانہ من غیر تلفظٍ یُسمع لا یقع، وإن صح الحروف، ترجمہ: اور اگر طلاق کو دل پر جاری کیا اور اپنی زبان کو حرکت بغیر لفظ ادا کیے کہ جنہیں سنا جا سکے تو طلاق واقع نہیں ہو گی اگرچہ لفظ درست ادا کیے ہوں ۔

(طحطاوي علی مراقي الفلاح،صفحہ219،دارلکتب،العلمیہ،بیروت)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ

انتظار حسین مدنی کشمیری

28ذو الحجۃ الحرام 1444ھ/17جولائی 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں