غیر مسلم  کے مرنے پر اس کی میت پر جانا اور وہاں کھڑے ہو کر دعا مانگنا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کسی غیر مسلم  کے مرنے پر اس کی میت پر جانا اور وہاں کھڑے ہو کر دعا مانگنا اور اس کےمتعلق تعریفی کلمات کہنا کیسا ہے؟

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوهاب اللهم هداية الحق والصواب

غیر مسلم کی میت پر جانا، اس کے لئے دعا کرنا اور اس کے لئے تعریفی کلمات کہنا رسمی طور پر ہو تو حرام اور سخت گناہ ہے ایسے شخص پر اعلانیہ توبہ فرض ہے اور اگر اُس کو مرحوم و مغفور سمجھ کر یہ سب کیا یا اس کے لئے دعائے مغفرت کی تو کفر ہے،اس پر اعلانیہ توبہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح و بیعت لازم ہے۔

اللہ پاک فرماتا ہے:”وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖؕ”ترجمہ:اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز جنازہ نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔(التوبة:84)

اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:”ولا تقف عند قبرہ للدفن او للزیارۃ و الدعاء”ترجمہ: اور اس کی قبر کے پاس دفن یا زیارت اور دعا کے لیے کھڑے نہ ہوں۔(تفسیر روح البیان،التوبۃ،تحت الایۃ 84)

علامہ جیون رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:”کافر کی قبر پر دفن و زیارت کے لیے ہرگز کھڑے نہ ہوں۔ اور “اِنَّھُمْ کَفَرُوْا” نماز جنازہ کے عدم جواز اور ان کی قبر پر عدم قیام کی علت ہے،اور “وَ ھُمْ فٰسِقُوْنَ” سے مراد “کافرون” ہے۔ (تفسیرات احمدیہ مترجم،صفحہ 641،مسئلہ 150)

تفسیر صراط الجنان میں ہے:”اس آیت سے معلوم ہو اکہ اگر کوئی کافر مر جائے تو مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اس کے مرنے پر نہ اس کے لئے دعا کرے اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑا ہو۔افسوس! فی زمانہ حال یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے ملک میں کوئی بڑا کافر مر جاتا ہے تو مسلمانوں کی سربراہی کے دعوے دار اس کے مرنے پر اس طرح اظہار افسوس کرتے ہیں جیسے ان کا کوئی اپنا بڑا فوت ہوگیا ہو اور اگر اس کی قبر بنی ہو تو اس پر کھڑے ہو کر دعا ئیں مانگتے ہیں۔ یہ دعا بالکل حرام ہے۔۔۔۔۔اور کافر کی قبر پر دفن و زیارت کے لئے کھڑے ہونا بھی ممنوع ہے(صراط الجنان،جلد 4،صفحہ 199،200،مکتبۃ المدینہ)

رد المحتار میں ہے:”ان الدعاء بالمغفرۃ للکافر کفر”ترجمہ: کافر کے لئے دعاء مغفرت کفر ہے۔(رد المحتار،جلد 2،کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ،مطلب فی الدعاء المحرم،صفحہ 288،دار المعرفہ)

فتاوی رضویہ میں ہے:”کافر کے لیے دعائے مغفرت و فاتحہ خوانی کفر خالص و تکذیب قرآن عظیم ہے۔(فتاوی رضویہ،جلد 21،صفحہ 228،رضا فاؤنڈیشن)

شارح بخاری مفتی شریف الحق لکھتے ہیں:”غیر مسلم مردے کے ساتھ شمشان گھاٹ جانا گناہ ہے اور اس طرح جائے کہ وہ بھی انکی بولی بولتا ھے تو کفر ھے اور اس صورت میں یہ حکم ھے کہ توبہ تجدید ایمان کرے بیوی والا ھے تو تجدید نکاح بھی کرے اور اگر بیوی والا نہیں ھے تو صرف تجدید ایمان کرے۔( فتاوی شارح بخاری،جلد 2، صفحہ 560،شبیر برادرز)

اسی میں ہے:”کافر کے لیے ایصال ثواب کرنا ،فاتحہ پڑھنا کفر ہے۔ایسے شخص پر توبہ، تجدید ایمان اور تجدید نکاح لازم ہے۔(فتاوی شارح بخاری،جلد 2، صفحہ 394،شبیر برادرز)

مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:”جو کسی کافر کے لیے اس کے مرنے کے بعد مغفرت کی دعا کرے، یا کسی مردہ مرتد کو مرحوم یا مغفور، یا کسی مردہ ہندو کو بیکنٹھ باشی (جنّتی) کہے، وہ خود کافر ہے”۔( بہار شریعت،جلد 1، حصہ 1،ایمان و کفر کا بیان،صفحہ 185،مکتبہ المدینہ)

مفتی اختر رضا خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہے:”زید سخت گناہ گار ہوا اس پر توبہ لازم ہے مگر ایسا کرنے سے وہ کافر نہ ہوگیا کہ تجدید نکاح اس پر لازم ہوجائے تجدید نکاح کا حکم نہ کریں گے جب تک کہ ثابت نہ ہو کہ وہ حلال سمجھ کر اس کی میت میں شریک ہوا مسلم سے ایسا گمان حرام ہے ہاں بہتر ہے کہ تجدید ایمان و تجدید نکاح کرلے۔(فتاوی تاج الشریعہ،جلد2،صفحہ 44،مرکز الدراسات الاسلامیہ)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 12 فروری، 2022 بمطابق 10 رجب المرجب،1443ھ بروز ہفتہ)

اپنا تبصرہ بھیجیں