عبد الرحمن کو رحمن بولنا کیسا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ہمارے ساتھ ایک شخص کام کرتا ہے جس کا نام عبد الرحمن ہے اور ہم اس کو رحمن بھائی بولتے ہیں کیا ہمارا ایسا کرنا جائز ہے؟

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوهاب اللهم هداية الحق والصواب

اللہ پاک کے بعض صفاتی نام ایسے ہیں کہ اگر مخلوق میں سے کسی کا وہ نام ہو تو اس میں “عبد” کی اضافت ضروری ہے،بغیر “عبد” لگائے کسی کا وہ نام پکارنا یا لکھنا حرام ہے۔رحمن بھی انہی ناموں میں سے ہے کیونکہ رحمن اس ذات کو کہتے ہیں جو حقیقی طور پر رحم کرنے والی ہو اور اس کی رحمت عام ہو اور ایسی رحمت صرف اور صرف اللہ پاک ہی کی ہو سکتی ہے۔اس لئے آپ پر لازم ہے کہ اپنے ساتھی کو عبد الرحمن(رحمن کا بندہ) کہیں صرف رحمن کہنا حرام ہے۔

تفسیر الراغب الاصفھانی میں ہے:”فأما لفظة الرحمن فليس يطلق إلا لله كلفظة الله، فإنهما اسمان اختص بهما الباري جل و عز باتفاق”ترجمہ: بہر حال لفظ رحمن کا اطلاق لفظ اللہ کی طرح ہرگز کسی مخلوق پر نہیں ہو سکتا کیونکہ لفظ اللہ اور رحمن ایسے نام ہیں جو بالاتفاق اللہ پاک کے ساتھ خاص ہیں۔(تفسیر الراغب الاصفھانی،جلد 1،صفحہ 50،کلیۃ الادب)

تفسیر بیضاوی میں ہے:”إنه لا يوصف به غيره لأن معناه المنعم الحقيقي البالغ في الرحمة غايتها، وذلك لا يصدق على غيره لأن من عداه فهو مستعيض بلطفه و إنعامه”ترجمہ: بے شک لفظ رحمن کے ساتھ اللہ پاک کے علاوہ کسی کو موصوف نہیں کر سکتے اس لئے کہ رحمن کا معنی ہے حقیقی طور پر رحم کرنے والا جس کی رحمت انتہا کو پہنچی ہوئی ہو اور یہ معنی کسی اور پر صادق نہیں آتا اس لئے کہ باقی لوگ اللہ پاک کی عطا سے لطف اور مہربانی کرتے ہیں۔(تفسير البيضاوي،جلد1،صفحہ 27،دار احیاء التراث)

مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہے:”كان معنى الرحمن هو المنعم الحقيقي تام الرحمة عميم الإحسان، ولذلك لا يطلق على غيره تعالى”ترجمہ: رحمن کا معنی یہ ہے کہ وہ حقیقی انعام کرنے والا ہو جس کی رحمت تام اور احسان عام ہو، اسی لیے اس کا اطلاق اللہ پاک کے علاوہ کسی اور پر نہیں کیا جاسکتا۔(مرقاۃ المفاتیح،جلد 4 ،صفحہ 1564،دار الفکر)

بہار شریعت میں ہے:”عبد اللہ و عبد الرحمن بہت اچھے نام ہیں مگر اس زمانہ میں یہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ بجائے عبد الرحمن اوس شخص کو بہت سے لوگ رحمن کہتے ہیں اور غیر خدا کو رحمن کہنا حرام ہے۔”(بہار شریعت جلد 3 ،حصہ 15، صفحہ 356،مکتبۃ المدینہ)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 23 فروری، 2022 بمطابق 22 رجب المرجب،1443ھ بروز جمعرات)

کیٹاگری میں : نام

اپنا تبصرہ بھیجیں