اوجھڑی کھانا شرعا منع ہے تو کیا اوجھڑی بیچنا بھی ناجائز ہوگا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اوجھڑی کھانا شرعا منع ہے تو کیا اوجھڑی بیچنا بھی ناجائز ہوگا؟

الجواب بعون الملک الوهاب اللهم هداية الحق والصواب

اوجھڑی کھانا ناجائز اور گناہ ہے مگر اس کو بیچنا مطلقا ناجائز نہیں بلکہ اس کی دو صورتیں ہیں۔

1- جس کے بارے میں یقین ہو کہ وہ اسے کھانے یا کسی اور کو کھلانے کے لئے خرید رہا ہے تو ایسے کے ہاتھ بیچنا ناجائز ہے کیونکہ یہ ناجائز کام میں معاونت کرنا ہے۔

2- جس کے بارے میں یقین نہ ہو نہ ہی کوئی قرینہ ہو یا پتا ہو کہ وہ اسے جائز کام میں استعمال کرے گا تو اس کو بیچنا جائز ہے۔قرینہ سے مراد مثلا اس کا ہوٹل ہے جہاں وہ اوجھڑی کھلاتا ہے تو یہ یقین کے قائم مقام ہے۔

اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ اوجھڑی کے ناجائز ہونے کے بارے میں فرماتے ہیں:”اب فقیر متوکلا علی اللہ کوئی محل شک نہیں جانتا کہ دُبر یعنی پاخانے کا مقام، کرش یعنی اوجھڑی ،امعاء یعنی آنتیں بھی اس حکم کراہت میں داخل ہیں۔”

(فتاویٰ رضویہ، جلد20،صفحہ238،رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

موسوعة القواعد الفقهية میں ہے:”کل شيء كره أكله والانتفاع به على وجه من الوجوه فشراؤه و بيعه مكروه، وكل شيء لا بأس بالانتفاع به فلا بأس ببيعه۔” ترجمہ ہر وہ چیز جس کا کھانا اور اس سے فائدہ اٹھانا دونوں ہی کسی بھی سبب سے ناجائز ہوں تو ان کی خرید و فروخت بھی ناجائز ہے اور ہر وہ چیز جس کا کھانا ناجائز ہو مگر اس سے فائدہ اٹھانا جائز ہو تو اس کی بیع میں کوئی حرج نہیں۔

(موسوعة القواعد الفقهية،جلد 8،صفحہ 437،موسسة الرسالة)

جد الممتار میں ہے:”ان الشئی اذا صلح فی حد ذاتہ بان یستعمل فی معصیۃ و فی غیرھا و لم یتعین للمعصیۃ فلم یکن بیعہ اعانۃ علیھا، لاحتمال  ان یستعمل فی غیر المعصیۃ و انما یتعین ذلک بقصد القاصدین و الشک لایؤثر۔”ترجمہ:جب کوئی شے  اپنی ذات کے اعتبار سے اس بات کی صلاحیت رکھتی ہو کہ گناہ اور گناہ کے علاوہ دونوں ہی کام میں استعمال ہو سکتی ہو اور خاص گناہ کے لیے متعین نہ ہو، تو اسے بیچنا گناہ پر مدد کرنا نہیں کہلائے گا، گناہ کے علاوہ کسی اور کام میں استعمال ہونے کے احتمال کی وجہ سے، کسی چیز کا تعین ارادہ کرنے والوں کے ارادے سے ہوتا ہے (اور ارادہ معلوم نہیں تو محض شک ہی رہ گیا )اور شک اثر انداز نہیں ہوتا، (یعنی شک پائے جانے کی صورت میں بھی بیچنا جائز ہے۔)

(جد الممتار، جلد7، کتاب الحظر والاباحۃ، صفحہ76، مکتبۃ المدینہ،کراچی)

فتاوی رضویہ میں ہے:”افیون   کی تجارت دوا کے لیے جائز اور افیونی کے ہاتھ بیچنا ناجائز ہے۔”

(فتاوی رضویہ،جلد23،صفحہ601،رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

بہار شریعت میں ہے:”افیون وغیرہ جس کا کھانا ناجائز ہے، ایسوں کے ہاتھ فروخت کرنا جو کھاتے ہوں ناجائز ہے کہ اس میں گناہ پر اعانت ہے۔

(بہار شریعت،جلد 3،حصہ 16،خرید و فروخت کا بیان،صفحہ 481،مکتبہ المدینہ)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 13 سمبر 2021 بمطابق 8 جمادی الاول،1443ھ بروز پیر)