غیر مسلم کی دوکان پر شراب بیچنا کیسا ہے؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ غیر مسلم کی دوکان پر شراب بیچنا کیسا ہے؟ بینوا توجروا۔

 الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔

غیر مسلم کی دوکان پر شراب بیچنا شرعاً ناجائز و گناہ ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جن چیزوں کا کھانا پینا خود مسلمانوں کے لیے ناجائز ہے، وہ چیزیں مسلمانوں کو تو درکنار، غیر مسلموں کو کھانے پینے کے لیے فراہم کرنا بھی ناجائز ہے، کیونکہ صحیح قول کے مطابق کفار بھی فروعات کے مکلّف ہیں، انہیں کھانے پینے کے لیے حرام اشیاء فراہم کرنا ضرور گناہ پر تعاون ہے اور اللہ عزوجل نے گناہ پر تعاون کرنے سے منع فرمایا ہے۔

اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿ وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللہَ اِنَّ اللہَ شَدِیۡدُ الْعِقَابِ ﴾۔

ترجمہ کنز العرفان:اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرواور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ شدید عذاب دینے والا ہے‘‘۔

(پارہ 06، سورۃ المائدہ، آیت 02)۔

حدیث پاک میں شراب سے متعلق دس افراد پر لعنت فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ جامع ترمذی میں ہے: ” لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فی الخمر عشرۃ: عاصرھا ومعتصرھا وشاربھا وحاملھا والمحمولۃ الیہ وساقیھا وبائعھا واٰکل ثمنھا والمشتری لھا والمشتراۃ لہ‘‘۔

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے معاملے میں دس بندوں پر لعنت فرمائی ہے، جو شراب کے لیے شیرہ نکالے، جو شیرہ نکلوائے، جو شراب پیے، جو اٹھا کر لائے، جس کے پاس لائی جائے، جو شراب پلائے، جو بیچے، جو اس کے دام کھائے، جو خریدے اور جس کے لیے خریدی جائے ۔ ‘‘

( جامع ترمذی، ابواب البیوع، جلد 01، صفحہ 242، مطبوعہ کراچی )۔

 میرے آقا سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:’’ شراب کا بنانا، بنوانا، چھونا، اٹھانا، رکھنا، رکھوانا، بیچنا، بکوانا، مول لینا، دلوانا سب حرام حرام حرام ہے اور جس نوکری میں یہ کام یا شراب کی نگہداشت، اس کے داموں کا حساب کتاب کرنا ہو، سب شرعاًناجائز ہیں۔ قال اللہ تعالیٰ: ﴿ وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ﴾‘‘۔

( فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 566،565، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور )۔

کفار بھی فروعات کے مکلّف ہیں۔ چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے: ’’ حرمۃ الخمر والخنزیر ثابتۃ فی حقھم کما ھی ثابتۃ فی حق المسلمین، لانھم مخاطبون بالحرمات وھو الصحیح عند اھل الاصول ‘‘۔

ترجمہ: شراب اور خنزیر کی حرمت غیر مسلموں کے حق میں بھی بالکل اسی طرح ثابت ہے، جس طرح مسلمانوں کے حق میں ثابت ہے، کیونکہ وہ بھی محرمات کے مکلف ہیں اور یہی اہلِ اصول کے نزدیک صحیح ہے ‘‘۔

(بدائع الصنائع، کتاب السیر، جلد 06، صفحہ 83، مطبوعہ کوئٹہ )

فتاوی رضویہ میں ہے:’’صحیح یہ ہے کہ کفار بھی مکلّف با لفروع ہیں ۔ ‘‘

( فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 382، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور )

کفار کو شراب پلانے کے متعلق ہدایہ شریف میں ہے :’’ ولا ان یسقی ذمیا ولا ان یسقی صبیا للتداوی والوبال علی من سقاہ‘‘۔

ترجمہ: ذمی اور بچہ کو دوا کے لیے ( بھی ) شراب پلانا، جائز نہیں اور اس کا وبال پلانے والے پر ہو گا ‘‘۔

( الھدایہ، کتاب الاشربہ، جلد 04، صفحہ 503، مطبوعہ پشاور )۔

صدر الشریعہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: ” کافر یا بچہ کو شراب پلانا بھی حرام ہےاگرچہ بطورِ علاج پلائے اور گناہ اسی پلانے والے کے ذمہ ہے۔ بعض مسلمان انگریزوں کی دعوت کرتے ہیں اور شراب بھی پلاتے ہیں وہ گناہ گار ہیں، اس شراب نوشی کا وبال انہیں پر ہے ‘‘۔

( بہار شریعت، جلد 30، صفحہ 672، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی )۔

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ الکریم اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

                    کتبہ            

سگِ عطار محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 22 شوال المکرم 1442ھ بمطابق 03 جون 2021ء بروز جمعرات )۔