قربانی کس پر واجب ہے

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ قربانی کس پر واجب ہے اور جو باوجود صاحب نصاب ہونے کے قربانی نہ کرے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔

جواب: الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔

ہر بالِغ، مُقیم،  مسلمان مرد و عورت، مالکِ نصاب پر قربانی واجِب ہے۔ اور جو شخص صاحبِ نصاب ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ سخت گناہ گار ہے کیونکہ واجب کا ترک سخت گناہ ہے۔

قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے جو اس امت کے لیے باقی رکھی گئی اور نبی کریم  صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو قربانی کرنے کا حکم دیا گیا، ارشاد فرمایا: { فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ } ترجمہ: ’’ تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو “.

اللہ پاک کے آخری نبی حضرت محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا “. یعنی ” جس میں وسعت ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے “۔

( سنن ابن ماجہ، کتاب الأضاحی، باب الأضاحی واجبۃ ھی أم لا، جلد 02، صفحہ 1044، مطبوعہ دار احیاء الکتب العربیہ ).

فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہدایہ میں ہے: ” الأضحية واجبة على كل حر مسلم مقيم موسر في يوم الأضحى “.

ترجمہ: عید الاضحی کے دن قربانی کرنا ہر آزاد، مُقیم،  مالکِ نصاب مسلمان پر واجِب ہے۔

وقار الفتاویٰ میں ہے: صاحبِ نصاب پر ہر سال قربانی واجب ہے، ۔۔۔۔ واجب کا ترک سخت گناہ ہے۔

( وقار الفتاویٰ، صفحہ 369، جلد 02، مطبوعہ بزم وقار الدین کراچی )

میرے آقا سیدی و مرشدی بانی دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں: ” ہربالِغ ،مُقیم، مسلمان مردو عورت ، مالکِ نصاب پر قربانی واجِب ہے۔ مالکِ نصاب ہونے سے مُراد یہ ہے کہ اُس شخص کے پاس ساڑھے باوَن تولے چاندی یا اُتنی مالیَّت کی رقم یا اتنی مالیَّت کا تجارت کا مال یا اتنی مالیَّت کا حاجتِ اَصلِیَّہ کے علاوہ سامان ہو اور اُس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ یا بندوں کا اِتنا قَرضہ نہ ہو جسے ادا کر کے ذِکر کردہ نصاب باقی نہ رہے۔

( ابلق گھوڑے سوار، صفحہ 06، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی ).

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ الکریم اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

                        کتبہ             

سگِ عطار محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 09 ذوالقعدۃ الحرام 1442ھ بمطابق 19 جون 2021ء بروز ہفتہ )۔