عید الاضحی کی ادائیگی کا مستحب وقت

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ عید الاضحی کی ادائیگی کا مستحب وقت کیا ہے ؟ 

 الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔

عید کی نماز کا وقت سورج طلوع ہونے کے بیس منٹ بعد سے لے کر ضحویٰ کبریٰ یعنی نصف النہار شرعی تک رہتا ہے۔ البتہ عید الفطر میں تاخیر کرنا اور عید الاضحیٰ میں جلدی پڑھنا مستحب ہے۔

فتاویٰ شامی و بحر الرائق میں ہے: ” يُنْدَبُ تَعْجِيلُ الْأَضْحَى لِتَعْجِيلِ الْأَضَاحِيِّ وَتَأْخِيرُ الْفِطْرِ لِيُؤَدِّيَ الْفِطْرَةَ كَمَا فِي الْبَحْرِ “.ترجمہ: عید الاضحیٰ میں قربانی جلدی کرنے کی وجہ سے جلدی نماز پڑھنا مستحب ہے اور عید الفطر میں فطرہ ادا کرنے کی وجہ سے تاخیر کرنا مستحب ہے۔

( رد المحتار علی الدر المختار، جلد 02، صفحہ 171، مطبوعہ دار الفکر بیروت )

فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ” والأفضل أن يعجل الأضحى ويؤخر الفطر “.ترجمہ: افضل یہ ہے کہ عید الاضحیٰ میں جلد ادا کرے اور عید الفطر دیر سے پڑھے۔

( الفتاویٰ الھندیۃ، جلد 01، صفحہ 150، مطبوعہ دار الفکر بیروت )۔

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ الکریم اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

                    کتبہ            

 سگِ عطار محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ