جانوروں کو لڑوانا کیسا اور اس کی لڑائی دیکھنا کیسا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ جانوروں کو لڑوانا کیسا اور اس کی لڑائی دیکھنا کیسا ہے؟ 

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔

جانور کی لڑائی کروانا جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں بے زبان جانور کو تکلیف دینا یے ( بعض لوگ اس شرط پر لڑائی کرواتے ہیں کہ جس کا جانور جیتے گا اس کو پیسے ملیں گے یہ جوا ہے جو کہ حرام ہے ). اسی طرح اس لڑائی کو دیکھنا بھی جائز نہیں ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے: ” نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّحْرِيشِ بَيْنَ البَهَائِمِ “.

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جانوروں کو لڑانے سے منع فرمایا۔

(جامع ترمذی، جلد 03، صفحہ 262، مطبوعہ دارالغرب الاسلامی- بیروت )۔

میرے آقا اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت مولانا امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن اسی طرح کے سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں فرماتے ہیں: ” لڑانا مطلقاً ناجائز و گناہ ہے کہ بے سبب ایذائے بے گناہ ہے “۔

( فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 644، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور )۔

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ” بٹیر بازی، مرغبازی اور اسی طرح ہر جانور کا لڑانا جیسے مینڈھے لڑاتے ہیں لعل لڑاتے ہیں یہاں تک کہ حرام جانوروں مثلًا ہاتھیوں ریچھوں کا لڑانا بھی سب مطلقًا حرام ہے کہ بلاوجہ بے زبانوں کوایذا ہے۔

( فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 655، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور )۔

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں کہ: ” جانوروں کو لڑانا مثلاً مرغ، بٹیر، تیتر، مینڈھے، بھینسے وغیرہ کہ ان جانوروں کو بعض لوگ لڑاتے ہیں یہ حرام ہے اور اس میں شرکت کرنا یا اس کا تماشہ دیکھنا بھی ناجائز ہے“.

( بہارِ شریعت، جلد 03، حصہ 16، صفحہ 512، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی ).

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

                   کتبہ            

 سگِ عطار محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 30 محرم الحرام 1442ھ بمطابق 08 ستمبر 2021ء بروز بدھ )۔