فاسق معلن کے پیچھے جمعہ پڑھنا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس بارے  میں کہ زید ایسی جگہ ملازمت کرتا ہے جو شہر کے اندر ہے لیکن وہ ایک بڑی کمپنی ہے جس میں باہر جاکر جمعہ پڑھنے کی اجازت نہیں اور کمپنی کے اندر جو امام ہے وہ فاسق معلن ہے اب اس بارے میں زید پر کیا حکم ہے؟

الجواب بعون الملک الوهاب اللهم هداية الحق والصواب

زید پر لازم ہے کہ وہ شہر میں کسی اور مقام پر صحیح العقیدہ غیر فاسق اہل امام کے پیچھے نماز جمعہ پڑھے اس لئے کہ اگر شہر میں مختلف جگہوں پر جمعہ ہوتا ہو تو فاسق معلن کے پیچھے جمعہ کی نماز پڑھنا ناجائز ہے،اگر نماز جمعہ کے لئے کمپنی سے باہر جانے کی اجازت نہیں تو ایسی نوکری کرنا ناجائز ہے،ہاں اگر شہر میں کسی اور مقام پر جمعہ نہیں ہوتا یا جمعہ تو ہوتا ہے مگر غیر فاسق امام نہیں ملتا تو اس فاسق معلن امام کے پیچھے نماز جمعہ ادا کرنا جائز ہے جبکہ وہ امامت کا اہل ہو اور کمپنی میں جمعہ کی تمام شرائط بالخصوص اذن عام بھی پایا جاتا ہو۔

فتح القدیر میں ہے:”لا ینبغی ان یقتدی بالفاسق الا بالجمعہ لان فی غیرھا یجد اماما غیرہ۔۔۔۔فیکرہ فی الجمعۃ اذا تعددت اقامتھا فی المصر علی قول محمد و ھو المفتی بہ لان بسبیل من التحول۔”ترجمہ:جمعہ کے علاوہ اور نمازوں میں فاسق کی اقتدا جائز نہیں،اس لئے کہ دوسری نمازوں میں فاسق کے علاوہ امام مل سکتا ہے،تو جب شہر میں مختلف جگہوں پر جمعہ ہوتا ہو تو امام محمد کے قول کے مطابق فاسق کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے اور اسی قول پر فتوی ہے کیونکہ دوسری جگہ پر جا کر نماز پڑھی جا سکتی ہے۔

(فتح القدیر،جلد 1،باب الامامۃ،صفحہ 359،دار الکتب العلمیہ)

فتاوی رضویہ میں ہے:”اس(فاسق معلن) کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی قریب بحرام ہے۔۔۔۔ جہاں کہ جمعہ متعدد مساجد میں ہوتا ہے نماز جمعہ بھی ہرگز نہ پڑھی جائے۔”

(فتاوی رضویہ،جلد 6،صفحہ 628،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

فتاوی اجملیہ میں ہے:”ایسی ملازمت شرعا جائز نہیں جس میں ترک فرائض کرنا پڑے۔”

(فتاوی اجملیہ،جلد 2،صفحہ 319،شبیر برادز)

عالمگیری میں ہے:”و ان لم یفتح باب الدار و اجلس البوابین علیھا لم تجز لھم الجمعہ”ترجمہ:اور اگر بادشادہ نے دروازہ بند کر کے جمعہ پڑھایا اور محافظوں کو بٹھا دیا کہ لوگوں کو آنے نہ دیں  تو جمعہ نہ ہوا۔

(الفتاوی الھندیۃ، جلد 1،کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، صفحہ 164،دار الکتب العلمیہ)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

 مورخہ: 5 اگست 2021 بمطابق 25 ذو الحجہ 1442ھ بروز جمعرات 

اپنا تبصرہ بھیجیں